Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چھ سال کی بچی کو سو روپے پڑے ہوئے ملے، اس کا حکم
- Fatwa no.
- 1534-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) تقریباً چار ماہ پہلے میری چھ سال کی چھوٹی بیٹی کو گلی سے ایک سو 100 روپیہ زمین پر گرا ہو املا، اس نے گھر آکر مجھے دے دیئے۔ میں نے گلی میں دیکھا کوئی بھی نہیں ملا۔ مین بڑی گلی ہے ، لوگوں کی آمد وروفت بھی زیادہ ہے ، مالک کا ملنا بہت مشکل ہے ، پتا نہیں کون ہے مالک۔ اس لفظہ کے بارے میں کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
یہ رقم بھی لقطہ کے حکم میں ہے اور شرعی نقطہ نظر سے نابالغ بچے کے لقطہ اٹھانے کا حکم ایسا ہی ہے جیسے بالغ کے لفظہ اٹھانے کا حکم ہو تا ہے، البتہ لقطہ کے مال کی حفاظت اور اس کی تشہیر کرنانا بالغ کے ولی یاسر پرست پر لازم ہو گی۔ اتنے زمانہ تک تشہیر کرے کہ ظن غالب ہو جائے کہ مالک اب تلاش نہ کرتا ہو گا۔ یہ مدت پوری ہونے کے بعد اختیار ہے کہ اس رقم کی حفاظت کریں یا کسی مسکین پر تصدق کر دیں اور اگر بچی خود شرعی فقیر ہو تو ولی یا سر پرست دور تم بچی پر بھی خرچ کر سکتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.