Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

درہم کی مقدار سے کم پیشاب کے قطرے کپڑوں پر لگے ہوں تو نماز کا حکم

Fatwa no.
1513-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مجھے کئی سالوں سے پیشاب کے قطروں کا مسئلہ ہے، اگر در ہم سے کم پیشاب کپڑوں پر لگا ہو ، تو کیا اس حالت میں ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ اس موقع پر درہم کی مقدار کی وضاحت بھی کر دیجئے ؟

Answer (beginning)

نجاست غلیظہ جب کپڑے یا بدن پر ایک درہم سے کم لگی ہو تو نماز پڑھنا تو جائز ہے، البتہ خلاف سنت ہے ، ایسی نماز کا دہر انا بہتر ہوتا ہے۔ پیشاب ایک درہم ہونے سے مراد اس کی لمبائی اور چوڑائی ہے ، اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی کے برابر بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زیادہ پانی نہ رک سکے ، اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے اتنا بڑا اور ہم سمجھا جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.