Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اپاہج عورت کو زکوۃ دینا جبکہ ان کے پاس کچھ سونا بھی موجود ہے
- Fatwa no.
- 1512-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک 60 سالہ عورت ہے، جو بچپن سے اپانچ ہے ، جوانی میں کپڑے وغیرہ سلائی کر کے گزارہ کرتی تھیں۔ مگر ابھی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے کام نہیں کر پاتیں، مختلف لوگ ان کو زکوۃ دیتے ہوں، ان کے ہاتھ میں چھوٹی سی سونے کی انگوٹھی ہے اور سونے کی بالیاں بھی ان کے کان میں نظر آتی ہیں، تو ایسی صورت میں وہ شرعی فقیر کی حیثیت بر قرار رکھتی ہیں جب کہ کوئی ذریعہ معاش بھی نہ ہو ؟
Answer (beginning)
. جس شخص کے پاس حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر کوئی بھی مال موجود ہو تو اس کے لیے زکوۃ لینا جائز نہیں لہذا یہ دیکھ لیں کہ مذکورہ اپانچ عورت کے پاس سونے کی انگوٹھی اور بالی کے علاوہ حاجت اصلیہ سے زائد اور کتنی چیزیں ہیں اور ان کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہے یا کم ہے ؟ اگر کسی بھی طرح ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر حاجت اصلیہ سے زائد اموال ان کی ملکیت میں موجود ہیں اور ان پر قرضہ بھی نہیں ہے تو ان کو ز کوۃ دینا جائز نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.