Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دو اسلامی بہنوں کو زکوۃ کی مد میں کچھ سامان و رقم دی، ان میں ایک سیدہ ہے، تو حکم
- Fatwa no.
- 1511-Web
Question
دو اسلامی بہنوں کو ان کے ایک رشتہ دار کچھ جوڑے اور رقم وغیرہ تحفہ دے گئے اور کہا کہ یہ میری طرف سے تحفہ ہیں، جبکہ ان کے گھر کی عورت نے بتایا کہ اس نے زکوۃ دی ہے یہ ہر سال ایسے ہی دیتے ہیں، گھر ذاتی ہے مگر کچھ سونا چاندی نہیں ہے بس 30 ہزار کے قریب رقم جمع رکھی ہو گی دونوں کے پاس، اب دینے والے سے وضاحت لینا ضروری ہے اور ایک اسلامی بہن ہے سیدہ ہیں تو کیا حکم
Answer (beginning)
جو اسلامی بہن سیدہ نہیں ہیں اگر وہ شرعی فقیر ہیں یعنی ان کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد مال حاجتِ اصلیہ (ضروریات زندگی) کے علاوہ نہ ہو نیز وہ ہاشمی بھی نہ ہوں تو انہیں اگر زکوۃ دی بھی گئی ہے تو کوئی حرج نہیں مگر جو اسلامی بہن سیدہ ہیں ان کو نہ زکوۃ دینا جائز ہے اور نہ ان کے لیے لینا جائز ہے اور نہ دینے والے کی زکوۃ ادا ہو گی لہذا ان کو دیے گئے تحائف کے متعلق وضاحت لینا ضروری ہے کہ اگر ز کوۃ ہے تو انہیں واپس کر دیں یہ بتا کر کہ ہم سید ہیں اور اگر زکوۃ نہیں ہے تو انکے لئے بھی لینا جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.