Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عدت کے متعلق چند سوالات کے جواب
- Fatwa no.
- 1510-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) (1) طلاق یافتہ عورت کی عدت کتنی ہے ؟ (2) اگر حیض کی حالت میں طلاق دی، تو وہ حیض شمار ہو گا یا نہیں ؟ (3) اگر ہر حیض میں دوماہ کا وقفہ ہو، تو بھی کیا حیض سے عدت گزارنی ہوگی ؟
Answer (beginning)
(1) نکاح صحیح کے بعد ہمبستری یا خلوت صحیحہ ہو تو مختلف عورتوں کی عدت مختلف ہے جس کی تفصیل یہ ہے : اگر عورت حیض والی ہے تو اس کی عدت تین مکمل حیض ہے۔ اگر بڑی عمر ( یعنی پچپن برس عمر) کی وجہ سے حیض نہیں آتا یا عمر کے حساب سے بالغہ ہوئی اور ابھی تک حیض نہیں آیا تو عدت تین مہینے ہے۔ اگر حاملہ ہے تو عدت بچہ جننے تک ہے اگر چہ طلاق یا خلع کے کچھ دیر بعد ہی بچہ پیدا ہو جائے۔ یادر ہے اگر فقط نکاح ہو اہو اور ہمبستری یا خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی تو طلاق یافتہ کی کوئی عدت نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.