Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حج کی دعوت اور عقیقہ ایک ساتھ کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1509-Web
Question
(دعوت اسلامی) (1) حج کی دعوت اور عقیقہ ساتھ کرنا، جائز ہے؟ (2) حج کی دعوت پہ حاجی صاحبان کا تحفہ لینا جائز ہے؟
Answer (beginning)
(1) اگر عقیقہ کی نیت سے جانور ذبح کر کے اس سے حج کی دعوت کی تو یہ جائز ہے جبکہ عقیقہ کے جانور میں قربانی والے جانور کی تمام شر انکا پوری ہوں۔ یادر ہے عقیقے کے گوشت کا وہی حکم ہوتا ہے ، جو قربانی کے گوشت کا ہوتا ہے یعنی بہتر یہ ہے کہ اس کے بھی تین حصے کیے جائیں : " ایک حصہ اپنے لیے ، ایک فقراء کے لیے اور ایک دوست و احباب کے لیے۔ " اور اگر سارا اپنے لیے رکھ لیا تو بھی جائز ہے اور اگر سارا تقسیم کر دیا تو یہ بھی جائز ہے۔ رسالہ ”عقیقہ کے بارے میں سوال جواب “ میں ہے: ”سوال 13: شادی کے جانور میں بعض لوگ دُولہا اور دیگر افراد کے عقیقے کی نیت کر لیتے ہیں۔ کیا اس طرح عقیقہ ہو جاتا ہے ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.