Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ کی نانی،دادی، خالہ، ماموں نے کوئی چیز اس کی نیت سے خریدی، تو کیا حکم ہوگا ؟
- Fatwa no.
- 1503-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر نابالغ بچے کی نانی یا خالہ یاماموں یا دادی (جو اس کا ولی نہ ہو) اس بچے کی نیت سے کوئی چیز خریدیں تو کیا خریدتے ہی وہ چیز اس کی ملکیت میں ہو جائے گی یا خریدنے والے ہی ملک میں رہے گی ؟
Answer (beginning)
غیر ولی نے اپنے مال سے نابالغ کے لیے کچھ خرید اتو وہ چیز اس کی اپنی ہو گی جس نے خریدی، نابالغ کی ملکیت نہیں ہو گی۔ ہاں اگر وہ نابالغ یا اس کے ولی کو شرعی قبضہ کروادے، تو وہ نابالغ اس چیز کا مالک ہو جائے گا۔ نیز اگر وہ خرید ار اس نابالغ کا ولی یعنی سر پرست ہو اور نابالغ اس کے عیال میں ہو ، تو اگر چہ اسے بچے کے مال کی ولایت حاصل نہ ہو جیسے بعض صورتوں میں ماں کو غیر مال میں بچے کی ولایت حاصل ہوتی ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ اپنے مال سے بچے کو مالک کرنے کے ارادے سے کچھ خریدے، تو خریداری اسی کی اپنی ذات کے لیے ہو گی اور وہ بچے کو ہبہ یعنی گفٹ کرنے والی شمار ہو گی، کیونکہ ولی کو بچے کو ہبہ کرنے کا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.