Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دو تولہ سونا ہو اور ایک لاکھ کسی کو قرض دیا ہو، تو زکوۃ کا حکم
- Fatwa no.
- 1501-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کے پاس دو تولے سونا ہے اور ایک لاکھ روپے ہیں ، لیکن وہ ایک لاکھ کسی نے قرض لیا تھا اور 10 سال ہو گئے ہیں اور ابھی تک انہوں نے وہ ایک لاکھ واپس نہیں کئے ، اس صورت میں زکوۃ کا کیا حکم ہے واجب ہو گی یا نہیں؟
Answer (beginning)
اگر مقروض قرض کا اقرار کرتا ہے لیکن وہ ادا نہیں کرتا تو قرض دینے والے پر اس قرض کی زکوۃ لازم ہو گی لہذا پوچھی گئی صورت میں قرض میں دیے گئے لاکھ روپے بھی نصاب میں شامل ہوں گے اور لاکھ روپے کو دو تولہ سونے کے ساتھ ملایا جائے گا البتہ اس لاکھ کی زکوۃ فی الحال دینا واجب نہیں بلکہ جب اس میں سے نصاب کے پانچویں حصے کے بر ابر رقم مل جائے تو ز کوۃ کی ادائیگی لازم ہو گی اور جتنے سالوں کی زکوۃ باقی ہو وہ سب فوراً ادا کرنی ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.