Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نفاس کا خون رکنے کے بعد غسل کیا، پھر مدت میں خون دوبارہ آگیا
- Fatwa no.
- 1498-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر پہلے بچے کی پیدائش پر نفاس پینتیس (35) دن پر ختم ہوا (جس میں کم و بیش تیس دن خون اور بقیہ پانچ دن زرد رطوبت آئی ) اور پھر غسل کر لیا اور غسل کرنے کے بعد پھر خون آیا تو وہ کونسا خون مانا جائے گا؟
Answer (beginning)
زر در نگ بھی حیض و نفاس کا رنگ ہے اور بچہ پید اہونے پر عورت کے اگلے مقام سے عاد تا جاری ہونے والا خون نفاس ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے۔ اگر پہلی ولادت ہو اور چالیس دن سے پہلے ہی خون رک گیا تو حکم یہی ہے کہ غسل کر کے نماز روزہ شروع کر دے پھر اگر چالیس دن کے اندر دوبارہ خون آگیا تو یہ خون نفاس ہی کا شمار ہو گا۔ مذکورہ صورت میں بھی خون رکنے کے بعد دوبارہ چالیس دن کے اندر آیا ہے لہذا یہ نفاس ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.