Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا کوئی صورت ایسی ہے کہ مذی نکلنے سے غسل فرض ہوتا ہو ؟

Fatwa no.
1496-Web

Question

کیا کوئی ایسی صورت ہے جس میں مذی کے خارج ہونے سے غسل فرض ہوتا ہے؟

Answer (beginning)

جاگتے میں مذی نکلے تو اس سے غسل فرض نہیں ہو تا البتہ سونے کی بعض صورتوں میں مذی سے بھی غسل فرض ہوتا ہے۔ ندی سے غسل فرض ہونے کی صورت بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیه الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: ” اختلام یعنی سوتے سے اٹھا اور بدن یا کپڑے پر تری پائی اور اس ترکی کے منی یا مذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو تو غسل واجب ہے اگر چہ خواب یاد نہ ہو اور اگر یقین ہے کہ یہ نہ منی ہے نہ مذی بلکہ پسینہ یا پیشاب یا ؤدی یا کچھ اور ہے تو اگر چہ اختلام یاد ہو اور لذت انزال خیال میں ہو غسل واجب نہیں اور اگر منی نہ ہونے پر یقین کرتا ہے اور ندی کا شک ہے تو اگر خواب میں اختلام ہونا یاد…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.