Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گناہوں سے توبہ کر لی، مگر کفارہ ادا نہ کیا تو حکم

Fatwa no.
1485-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص کسی گناہ سے تو بہ کرے، لیکن کفارہ ادانہ کرے، تو کیا اس کی توبہ قبول ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

جن گناہوں پر کفارہ واجب ہے ان میں کفارہ دینا ہو گا اس کے بغیر تکمیل تو بہ نہیں ہو گی۔ اور جن پر کفارہ واجب نہیں ہے ان میں کفارہ دینا ضروری نہیں ، ہاں تو بہ کرنے سے پہلے کچھ خیرات کر دینے سے قبولیت توبہ کی زیادہ امید ہے۔ یادر ہے کہ تو بہ سچی تب ہوتی ہے جب اس کے ارکان پورے کیے جائیں۔ تو بہ کے ارکان یہ ہیں: اعتراف جرم (یعنی بندہ اپنے گناہ کا اللہ کی بارگاہ میں اعتراف کرے)، شرمندگی، عزم ترک (یعنی وہ گناہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا پکا ارادہ ہو ) اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی (یعنی نقصان کا بدلہ ) بھی لازم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.