Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کام کے سلسلہ میں بغیر احرام مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا حکم
- Fatwa no.
- 1481-Web
- Issued
- 10 شعبان المعظم 1445ھ /21 فروری2024ء
Question
حكم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں کام کے سلسلے میں جاتا ہے اور کام سے فراغت کے بعد عمرہ کرنے کا ارادہ بھی ہے۔ اب اس کے پاس دو راستے ہیں۔ یا تو وہ جدہ کی فلائٹ لے پھر وہاں سے مکہ مکرمہ جائے اس صورت میں دوران فلائٹ میقات سے گزرے گا یا پھر وہ مدینہ شریف یا کسی اور شہر کی فلائٹ لے کر وہاں جائے اور پھر بس کے ذریعے مکہ جاتے ہوئے میقات سے گزرے گا۔ ان دونوں صورتوں میں اگر جاتے ہی عمرو نہ کرنے کا ارادہ ہو، تو کیا وہ یہ کر سکتا ہے کہ احرام کے بغیر کام کے سلسلے میں مکہ مکرمہ کی حدود میں داخل ہو جائے، پھر جب کام سے فرصت ملے، تو میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کرلے یا اس کو پہلے عمرہ کرنا لازم ہو گا ؟
Answer (beginning)
اگر میقات سے گزرتے ہوئے مکہ مکرمہ شہر میں داخل ہونے کا ارادہ ہے جیسا کہ سوال میں ذکر ہے تو اگر چہ کسی کام کے سلسلے میں جانا ہو تب بھی میقات سے احرام باندھنا ضروری ہے، بغیر احرام گزرنے کی صورت میں دم لازم ہو گا کیونکہ ڈائریکٹ حدودِ حرم میں کسی کام کے ارادے سے بھی بغیر احرام داخلہ جائز نہیں، لہذ امذ کورہ صورت میں میقات سے پہلے عمرہ کی نیت سے احرام باندھ لیا جائے پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کی ادائیگی کر کے اپنے کام کو سر انجام دیا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.