Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام صاحب کا وضو ٹوٹنے پر باقی نمازیوں کو نماز توڑنے کا کہنا
- Fatwa no.
- 1475-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) امام صاحب نے عشاء کی نماز شروع کی اور تلاوت شروع کرنے سے پہلے ان کا وضو ٹوٹ گیا تو انہوں نے اپنا خلیفہ مقرر نہیں کیا بلکہ سب کو نماز توڑنے کا بول کر وضو کرنے چلے گئے ، ان کا ایسا کرنا کیسا؟ وضو وغیرہ کرنے کے بعد دوبارہ جماعت سے نماز ہوئی، اس نماز کا کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جب امام صاحب نے نماز توڑنے کا کہا اس وقت تمام لوگوں کی نماز فاسد ہو گئی ، بعد میں جب امام صاحب وضو کر کے آئے اور نئے سرے سے نماز پڑھائی، تو سب کی نماز شرعاً ادا ہو گئی اور امام کا خلیفہ مقرر نہ کرنا بھی شرعاً جائز تھا، بلکہ یہی افضل ہے کہ دوران نماز وضو ٹوٹنے کی صورت میں نیت توڑ کر دوبارہ نماز شروع کی جائے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ”مسئلہ استخلاف ایک سخت دشوار و کثیر الشقوق مسئلہ ہے جس میں بہت سے شرائط اور بکثرت اختلاف صور سے اختلاف احکام ہے جن کی پوری مراعات عام لوگوں سے کم متوقع، لہذاوہ ان امور کے خیال میں نہ پڑیں بلکہ جو بات احسن وافضل و اعلیٰ و اکمل ہے اس پر کار بند رہیں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.