Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ننگے سر اور پائنچے ٹخنے سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھنا

Fatwa no.
1464-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مجھے نماز میں ٹوپی پہننے سے سر بھاری محسوس ہوتا ہے اور زیادہ دیر ٹوپی سر پر رکھوں تو سر درد کرنے لگ جاتا ہے اور بغیر ٹوپی کے خشوع و خضوع بھی بہتر ہوتا ہے تو کیا میں اسی طرح ٹوپی کے بغیر نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ اسی طرح شلوار ٹخنوں سے اوپر کرتا ہوں تو اوپر سے شلوار پیٹ پر چلی جاتی جس سے پیٹ پر گھٹن محسوس ہوتی اور خشوع و خضوع نہیں ملتا تو کیا بغیر شلوار اوپر کیے نماز پڑھ سکتاہوں؟

Answer (beginning)

نگے سر نماز پڑھنے کے حوالے سے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: "ستی سے ننگے سر نماز پڑھنا یعنی ٹوپی پہنا بوجھ معلوم ہو تا ہو یا گرمی معلوم ہوتی ہو، مکروہ تنزیہی (یعنی نا پسندیدہ) ہے اور اگر تحقیر نماز مقصود ہے، مثلاً نماز کوئی ایسی مہتم بالشان (یعنی اہم چیز نہیں جس کے لئے ٹوپی ، عمامہ پہنا جائے تو یہ کفر ہے اور 66 محشوع خضوع (یعنی نماز میں دل لگنے) کے لئے عمر برہنہ ( یعنی جنگے سر نماز پڑھی تو مستحب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.