Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اولاد کے حصول کے لیے گدھی کا دودھ بطورِعلاج پینا

Fatwa no.
1456-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک عامل نے حصولِ اولاد کے لئے بطور علاج گدھی کا دودھ پینے کا کہا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا گدھی کا دودھ بطور دوا استعمال کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

گدھی کا دودھ حرام ہے ، بطور علاج بھی اس کا استعمال جائز نہیں۔ لہذا اولاد کے حصول کے لیے جائز طریقے سے علاج کروائیں، گدھی کا دودھ ہر گز نہ پلائیں، نیز اسے پینے کا مشورہ دینے والے عامل کے پاس جانے کی ہر گز اجازت نہیں۔ روحانی علاج کروانا ہو تو گھر کے کسی مرد کو بھیج کر گھر کے قریب تعویذات عطاریہ کے مکتب سے تعویذات حاصل کر کے انہیں استعمال کریں، ان شاء اللہ بہتری ہو گی۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ” تکرہ البان الاتان یعنی گدھی کا دودھ مکروہ ہے۔ (فتاوی هندیه، جلد 5، صفحہ 355، مطبوعہ: پشاور) مفتی اعظم مصطفی رضا خان نوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”مادہ خر گدھی کا دودھ جائز نہیں، حرام میں شفاء نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.