Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بلی کا جوٹھا کھانے کا حکم

Fatwa no.
1452-Web

Question

(دعوت اسلامی) بلی کا جھوٹھا کھا سکتے ہیں یہ مکروہ نہیں ہے کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے ؟

Answer (beginning)

بلی کا جو ٹھا کھانا پینا شر عانا جائز و گناہ نہیں البتہ مالدار کو اس کا جوٹھا کھانا پینا مکروہ تنزیہی یعنی نا پسندید ہ ہے اور غریب کے لئے بلا کراہت جائز ہے البتہ اگر بلی کے منہ پر نجاست جیسے چوہے کا خون لگاہوا تھا تو وہ چیز ناپاک ہو جائے گی اور اسے کھانا جائز نہ ہو گا۔ بہار شریعت میں ہے : "گھر میں رہنے والے جانور جیسے ہلی، چوہا، سانپ، چھپکلی کا جوٹھا مکروہ ہے۔ اگر کسی کا ہاتھ بلی نے چاٹنا شروع کیا تو چاہیے کہ فورا کھینچ لے یو ہیں چھوڑ دینا کہ چاٹتی رہے مکروہ ہے۔۔۔ بلی نے چوہا کھایا اور فوراً بر تن میں منہ ڈال دیا تو نا پاک ہو گیا اور اگر زبان سے منہ چاٹ لیا کہ خون کا اثر جاتارہاتو نا پاک نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.