Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زمین ساٹھ لاکھ کی خرید کر ستر لاکھ میں بیچی، تو زکوۃ ستر لاکھ پر ہوگی یا دس لاکھ پر؟

Fatwa no.
1451-Web
Issued
13 رجب المرجب 1445ھ / 25 جنوری 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اکام زمین خرید کر بیچنے کا ہے اب میں نے 60 لاکھ کی زمین خریدی ہے اور 70 لاکھ میں بیچی ہے اب زکوۃ 70 لاکھ پہ ہو گی یا جو مجھے نفع حاصل ہوا اس پر ؟

Answer (beginning)

ز کو پکا تعلق صرف نفع سے نہیں ہو تا بلکہ جو شخص صاحب نصاب ہو تو نصاب پر جس دن سال مکمل ہو اس دن اس کی ملکیت میں جتنے بھی اموال زکوة ہوں ان سب کی مجموعی مالیت پر چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد بطور زکوۃ دینا لازم ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر یہ ستر لاکھ روپے آپ کی ملکیت میں نصاب پر سال مکمل ہونے والے دن موجود ہوں تو سب مجموعے پر زکوة ہو گی اور اگر سال پورا ہونے سے پہلے کچھ رقم خرچ کر دی تو خرچ ہونے والی رقم پر زکوۃ لازم نہیں ہو گی بلکہ جتنی رقم سال پورا ہونے کے دن موجود ہو اس پر زکوۃ ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.