Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورت کا دورانِ عدت قریبی رشتے دار کے جنازے میں جانا

Fatwa no.
1450-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی عورت عدت میں ہو اور اس کے قریبی رشتے دار جیسے بہن بھائی وغیرہ کا انتقال ہو جائے تو کیا وہ عورت وہاں جاسکتی ہے اور کیا رات بھی رک سکتی ہے ؟

Answer (beginning)

عورت کو عدت میں قریبی رشتے دار مثلاً : والد، بھائی، بہن کے انتقال پر جانے کی اجازت ہے ، دن میں جائے رات سے پہلے واپس آجائے ، رات کا اکثر حصہ اپنے مکان (جہاں عدت گزار رہی ہے ) میں گزار ناشر عالازم ہے۔ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اسی شہر میں ہو ، دوسرے شہر جانے کی اجازت نہیں۔ فتاوی فقیہ ملت میں : ”عورت کا عدت میں قریبی رشتہ داروں کی موت کے وقت جانے کے بارے میں عند الشرع کیا حکم ہے ؟“ اس کے جواب میں ہے: ”موت کی عدت میں اگر باہر جانے کی حاجت ہو تو عورت دن میں اور رات کے کچھ حصہ میں باہر جاسکتی ہے بشر طیکہ رات کا اکثر حصہ اپنے مکان میں گزارے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.