Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورتوں کا چادر کندھوں پر لٹکا کر نماز پڑھنا

Fatwa no.
1448-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) آج کل عورتیں چادر ایسے بھی اوڑھتی ہیں جیسے سٹالر یا سکارف سر پر اوڑھ لیتی ہیں اور چادر ایک کندھے پر رکھ لیتی ہیں۔ ایسی صورت میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے تو اگر پڑھ لی ہو اور مسئلہ بعد میں معلوم ہو اور یہ بھی یاد نہ ہو کہ کتنی نمازیں اس طرح پڑھی ہیں تو کیا کرنا چاہیے ؟

Answer (beginning)

سر پر اس طرح چادر ڈالنا کہ وہ گردن یا جسم کے گرد لپٹی ہوئی نہ ہو، اس کے دونوں پلو آگے کی جانب لٹک رہے ہوں، یا ایک پلو آگے کی جانب اور دوسرا پیچھے کی جانب ہو یہ سدل کہلاتا ہے ہے اور نماز میں سدل مکروہ تحریمی ہے یعنی اس حالت میں نماز پڑھ لی تو اس کا لوٹانا واجب ہے ، اب اگر یاد نہیں ہے کہ کتنی نمازیں اس طرح پڑھی ہیں ؟ تو جتنی نمازوں سے متعلق غالب گمان ہے اتنی نمازوں کا اعادہ (لوٹانا ) واجب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.