Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لاہور سے اٹک جا کر واپس لاہور ایک ہفتے کا قیام ہو، تو نمازوں کا حکم جبکہ دونوں وطنِ اصلی نہیں

Fatwa no.
1442-Web

Question

(دعوت اسلامی) مفتی صاحب میں سٹوڈنٹ ہوں لاہور ہاسٹل میں رہتا ہوں، میراگھر سر گو دھا میں ہے۔ میں اگر دو دن کے لئے لاہور سے اٹک جاؤں اور واپس لاہور آنے کے ایک ہفتے بعد مجھے سر گو دھا جانا ہے ، تو ایک ہفتہ جو میں لاہور میں گزاروں گا اس دوران مجھے قصر نماز پڑھنی ہو گی یا مکمل ؟ اور اٹک میں دو دن ہی رہنا ہے ، تو وہاں بھی مسافر رہوں گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ اٹک میں مسافر ہوں گے اور وہاں سے واپسی پر لاہور میں ایک ہفتہ قیام کے دوران بھی آپ مسافر ہوں گے لہذا اٹک جاتے ہوئے ، اٹک میں قیام کے دوران اور اٹک سے لاہور آتے ہوئے راستے میں اور لاہور میں ایک ہفتہ قیام کے دوران آپ قصر پڑھیں گے کیونکہ لاہور آپ کے لیے وطن اقامت ہے اور وطن اقامت سے شرعی مسافت کی مقدار سفر کرنے پر وطن اقامت باطل ہو جاتا ہے اور وہ دوبارہ وطن اقامت اسی صورت میں بنتا ہے جب وہاں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہو جبکہ پوچھی گئی صورت میں آپ کی لاہور میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہیں لہذا لا ہو ر وطن اقامت نہیں بنے گا اور آپ وہاں شرعا مسافر ہوں گے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.