Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سات لاکھ رقم قرض دی ہوئی ہے، کیا اس پر زکوۃ لازم ہوگی ؟

Fatwa no.
1437-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم نے سات لاکھ رقم کسی کو قرض دی ہوئی ہے ، کیا اس پر بھی زکوہ دینا ہو گی ؟

Answer (beginning)

قرض میں دی گئی رقم پر سال بسال زکوۃ بنتی رہتی ہے اور بہتر یہی ہے کہ اس کی زکوۃ بھی سال مکمل ہونے پر ہی ادا کر دی جائے ، ہاں یہ بھی اختیار ہے کہ قرض میں دی ہوئی رقم کی زکوۃ اس وقت دی جائے جب کم از کم نصاب کے پانچویں حصہ کے برابر رقم وصول ہو جائے۔ نیز اگر ایک ساتھ ہی ساری قرض کی رقم ملے تو سب پر ایک ساتھ ہی زکوۃ ادا کر ناضروری ہے جبکہ نصاب پر سال گزر چکا ہو اور اگر کئی سال بعد ر قم موصول ہو تو گزشتہ تمام سالوں کا حساب لگا کر سب سالوں کی زکوۃ ادا کرنی ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.