Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغہ بچی کی وراثت میں صرف والدین کا حق ہے یا سگے بہن بھائی کا بھی؟
- Fatwa no.
- 1431-Web
Question
میری گیارہ ماہ کی بیٹی کا انتقال ہو گیا، اس کی ایک سگی بہن اور ایک سگا بھائی ہے ، اور ہم ماں باپ بھی دونوں ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ اس کی کچھ رقم اس کی والدہ کے پاس موجود ہے، جو مختلف مواقع پر لوگوں نے اسے دی تھی، اس رقم پر اس کے سگے بہن بھائیوں کا بھی حق ہو گا یا صرف ہم والدین میں تقسیم ہو گی ؟
Answer (beginning)
اللہ پاک آپ سب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اس بچی کو آپ کے لیے ذریعہ نجات بنائے۔ آمین۔ پوچھی گئی صورت میں بچی کی ملکیت کی ہر چیز اس کے ورثاء یعنی والدین میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی جبکہ بہن بھائی کا اس کے ترکے میں کوئی حق نہیں کیونکہ باپ کی موجودگی میں سگے بہن بھائی محروم ہو جاتے ہیں۔ بہار شریعت میں ہے: " حقیقی بھائی بہن ہوں یا باپ شریک ، سب کے سب بیٹے یا پوتے (نیچے تک ) اور باپ کے 66 ہوتے ہوئے بالا تفاق محروم رہتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.