Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رقم ایڈوانس دے کر تھوڑی تھوڑی خریداری کرتے رہنا

Fatwa no.
1426-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) دودھ والے یا گوشت والے کو ایڈوانس رقم دے کر پھر پورا مہینہ تھوڑی تھوڑی خریداری کرتے رہنے کا کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

سوال میں بیان کردہ خریداری کا طریقہ شرعاً جائز نہیں ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مذکورہ صورت قرض دے کر اس کے بدلے نفع حاصل کرنے کی ہے اور قرض کے بدلے کسی بھی طرح کا نفع حاصل کرنا سود و حرام ہے۔ نفع کی صورت یہ ہے کہ اگر رقم گاہک کے پاس رہتی تو ضائع ہو جانے کا امکان تھا جو کہ اس نے دودھ یا گوشت والے کو قرض دے کر ختم کر دیا کہ اب اگر اس سے رقم ضائع ہو جائے تو بھی اس کے ذمے ادا ئیگی لازم رہے گی، اس طرح گاہک نے قرض دے کر اپنی رقم ضائع ہونے سے حفاظت کا فائدہ حاصل کیا تو یوں وہ قرض سے نفع اٹھارہا ہے جو کہ جائز نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.