Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رہن پر لی ہوئی چیز مالک کی اجازت سے استعمال کرنا

Fatwa no.
1424-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) رہن پر دی ہوئی چیز کو استعمال کرنا کیسا ؟ اگر اس چیز کا مالک استعمال کرنے کی اجازت دے دے تو شرعاً کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

کسی مسلمان کو قرض دے کر اس سے کوئی چیز مثلاً مکان و غیر ہ استعمال کرنے کی شرط کے ساتھ گروی لینا ہرگز جائز نہیں، مقروض اسے استعمال کرنے کی اجازت دے دے تب بھی قرض کی بنیاد پر اسے استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ یہ طریقہ سودی طریقہ ہے اور ناجائز و حرام ہے، کیونکہ اس میں قرض دے کر اس سے مشروط طور پر نفع اٹھانا پایا جاتا ہے اور قرض پر نفع لینا سود ہے۔ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عليه رحمة الرحمن فرماتے ہیں: ”رہن میں کسی طرح کے نفع کی شرط بلاشبہ حرام اور خالص سود ہے بلکہ ان دیار میں مرتبہن کا مرہون سے انتفاع بلا شر ط بھی حقیقی: بحکم عرف انتفاع بالشرط ربائے محض ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.