Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خون اگر کپڑے پرلگا ہو تو کپڑا کتنی بار دھونا ہوگا ؟

Fatwa no.
1418-Web
Issued
28 جمادی الثانی 1445ھ / 11 جنوری 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) خون والی نجاست مرئی ہے یا غیر مرئی؟ خون لگے کپڑوں کو پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ کیا غیر جاری پانی سے دھوتے وقت ان کو بھی تین بار دھونا اور تین بار نچوڑ نا ضروری ہے ؟ یا محض خون کا اثر چھڑ الینا کافی ہے ؟

Answer (beginning)

خون دلدار نجاست مرئیہ میں شامل ہے، اس کو دھونے میں گنتی شرط نہیں ہے، بلکہ جتنی بار دھونے میں خون کا اثر صاف ہو جائے، اتنی بار دھونا ہو گا۔ بہار شریعت میں ہے : " نجاست اگر دلدار ہو ( جیسے پاخانہ، گوبر، خون و غیرہ) تو دھونے میں گنتی کی کوئی شرط نہیں بلکہ اس کو دور کرناضروری ہے ، اگر ایک بار دھونے سے دور ہو جائے تو ایک ہی مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا اور اگر چار پانچ مرتبہ دھونے سے دور ہو تو چار پانچ مرتبہ دھونا پڑے گا ہاں اگر تین مرتبہ سے کم میں نجاست دور ہو جائے تو تین بار پورا کر لینا مستحب ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.