Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شادی کا تقدیر میں لکھا جا چکا ہے، تو کسی عورت کا رشتہ مانگنا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 1410-Web
Question
شادی کس سے ہوئی ہے وہ تو تقدیر میں لکھا جا چکا ہے اور بدل نہیں سکتا ، اگر کوئی شخص کسی عورت کی دینداری ، حسن اخلاق و آداب و غیرہ کا سن کر اس سے رشتہ کرنا چاہے ، تو اس کا ہاتھ مانگ سکتا ہے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے سب تقدیر میں لکھا جا چکا ہے کس کی کس سے شادی ہونے ہے ، کون کب فوت ہو گا، کہاں نوکری کرے گا، کہاں کب کیا کھائے گا وغیرہ وغیرہ، لیکن جب انسان کو معلوم ہی نہیں ہے کہ کیا لکھا ہے؟ تو قبل از وقت یہ سوچنا بے کار ہے کہ تقدیر بدل سکتی ہے یا نہیں ؟ ہو سکتا ہے جس سے شادی کرنا چاہتا ہو ، اس کے ساتھ اس کی جوڑی لکھی ہو ، بلکہ اگر تقدیر میں لکھا جا چکا تو جائز طریقہ پر کوشش کرنے اور دعا کرنے میں یہ بات رکاوٹ نہیں ہے کہ بعض تقدیریں اللہ عزو جل کے حکم اور دعا سے بدل جاتی ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.