Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
استنجا کرنے کے کچھ دیر بعد وضو کیا، تو وضو کا حکم
- Fatwa no.
- 1397-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک آدمی واش روم گیا، استنجا کیا اور باقی وضو نہیں کیا، پھر ایک گھنٹے بعد وہ گیا اور باقی وضو مکمل کیا۔ کیا ۔ اس طرح وضو ہو گیا ؟ مطلب کہ وہ جو کہا گیا ہے کہ ایک عضو کے خشک ہونے سے پہلے دوسرا عضو دھونا ضروری ہے، تو کیا یہاں بھی وہ حکم لگے گا ؟
Answer (beginning)
استنجاء وضو کا حصہ نہیں۔ استنجاء اور وضو میں فاصلہ کرنے میں حرج نہیں۔ البتہ جو افعال وضو کے ہیں ان میں کچھ افعال کر کے بقیہ وضو چھوڑ دینا اور پھر کچھ دیر بعد آکر بقیہ اعضاء دھو کر وضو مکمل کر لینا بلا عذر ایسا کر نا خلاف سنت اور مکروہ ہے البتہ دوبارہ شروع سے نہیں کیا بلکہ جتن و ضو باقی رہ گیا ہے وہ کر لیا تو بھی وضو ہو جائے گا، جبکہ درمیان میں وضو توڑنے والی کوئی چیز نہ پائی گئی ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.