Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مردار مچھلی کی حلت کہاں سے ثابت ہے ؟
- Fatwa no.
- 1395-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس طرح قرآن و حدیث میں مردار جانوروں کا کھانا حرام وارد ہوا ہے ، کیا اسی طرح مردار مچھلی کی حلت بھی نصوص سے اور دلائل سے ثابت ہے ؟
Answer (beginning)
مچھلی ذبح کرنے کے بغیر ہی مرگئی ہو تب بھی اسے کھانا حلال ہے فقط ایک صورت میں یہ مردار کہلائے گی اور اس کا کھانا جائز نہیں ہو گا اور وہ صورت یہ ہے کہ جو مچھلی خود بخود مر کر پانی کی سطح پر الٹ گئی ہو یہ بات احادیث میں صراحتا مذکور ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "احلت لكم ميتتان و دمان، فاما الميتتان فالحوت والجراد، واما الدمان فالكبد والطحال“ یعنی تمہارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کر دیے گئے ہیں، دو مر دار مچھلی اور ٹڈی ہیں ، دوخون کلیجی اور تلی ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.