Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صاحبِ نصاب کے تین کمیٹیاں جمع کروانے کے بعد ہی کمیٹی نکل آئی، تو زکوۃ کا حکم

Fatwa no.
1394-Web

Question

میں پہلے سے صاحب نصاب ہوں اور نصاب کا سال رجب کی پہلی تاریخ کو پورا ہوتا ہے ، میں نے ایک کمیٹی ڈالی ہوئی ہے ، جس کی دو قسطیں یعنی تیس ہزار روپے ادا کر چکا ہوں ، تیسرے مہینے میری 285000 روپے کی کمیٹی نکل آئی۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ مجھے اس ملنے والی پوری رقم پر زکوۃ دینی ہو گی یا صرف تیس ہزار پر زکوۃ ہو گی ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر چہ آپ کو دولاکھ پچاسی ہزار روپے مل چکے ہیں، لیکن چونکہ کمیٹی کی بقیہ اقساط آپ پر قرض ہیں لہذا ان بقیہ اقساط کو اپنے مجموعی مال میں سے مائنس کریں گے ، اگر ان اقساط کو مائنس کرنے کے بعد مجموعی مال نصاب کے برابر ہو ، تو سال گزرنے کے دن آپ پر زکوۃ فرض ہو گی ورنہ نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.