Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عامل بتائے کہ فلاں رشتے دار نے جادو کیا ہے، تو اس کی بات پر اعتماد کرنا

Fatwa no.
1392-Web

Question

ایک شخص کی طبیعت خراب ہو گئی ، ڈاکٹر ز کو چیک کروایا دوائی لی، لیکن آرام نہیں ہوا، رپورٹس بھی سب کلیئر تھیں، پھر کسی عامل سے رابطہ کیا، اس نے حساب دیکھا اور کہا ان پر تعویذ ہوئے ہیں اور اس نے اس شخص کا نام بھی بتایا جس نے تعویذ کروائے تھے ، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

Answer (beginning)

عملیات یا جادو کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچنا تو شرعا ثابت ہے البتہ ہمارے ہاں عوام کو چار دن نزلہ ہو جائے تو کہتے ہیں کہ جادو ہو گیا ہے اور پھر عاملین کے پاس بھاگتے ہیں اور پھر بعض عالمین ہر چیز کو عملیات سے منسوب کر دیتے ہیں نیز وہ عملیات کروانے والے کے بارے میں معلومات کا قطعی دعویٰ کرتے ہیں اور عملیات کر وانے والے کا نام بتا کر لوگوں کے درمیان نفرتیں پیدا کرتے ہیں، ان تمام باتوں کی شرعا کوئی حیثیت نہیں ہے ، جب تک کوئی خود اقرار نہ کر لے تب تک کسی کے بارے میں قطعاً یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اس نے جادو کروایا ہے بلکہ یہ بہتان ہے جو کہ شرعاًناجائز و گناہ ہے اس لیے ایسے عاملوں کی باتوں کا یقین…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.