Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دل میں یہ خیال کرنا کہ نماز ظلم ہے

Fatwa no.
1387-Web
Issued
02 جمادی الثانی 1445ھ / 16 دسمبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص دل ہی دل میں یہ سوچے کہ نماز ظلم ہے ، لیکن اس بات کو براہی سمجھے تو کیا حکم ہو گا ؟

Answer (beginning)

اگر صرف وسوسه آیا یعنی شیطان نے ایسا گند اخیال ڈالا کہ نماز بوجھ یا ظلم ہے اور اس شخص نے اسے فورار د ( reject) کر دیا اور اسے نا پسند کیا، تو کفر نہیں، لیکن معاذ اللہ ، اگر قصد خود ایسا سوچے یا اسے صحیح جانے، تو اگر چہ زبان سے نہ کہا مگر دل میں بھی نماز کو ظلم یا بوجھ سمجھا، تو یہ کفر ہے، ایسا شخص اسلام سے نکل جائے گا اور اس پر اس کفر سے تو بہ کرتے ہوئے کلمہ پڑھ کرنے سرے سے مسلمان ہو نا فرض ہے اور اگر شادی شدہ تھا تو نکاح بھی ٹوٹ گیا۔ تو بہ و قبول اسلام کے بعد اسی بیوی کے ساتھ رہنا چاہے تو تجدید نکاح ضروری ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.