Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض دے کر قرض کی وصولی انفلیشن ایڈ کرکے لینے کا حکم

Fatwa no.
1379-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قرض دوں اور یہ شرط لگاوں کے وصولی انگلیشن ایڈ کر کے لوں گا یا فلاں چیز کی قیمت کے اعتبار سے لوں گا تو کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

جتنے پیسے آپ قرض دیں گے اتنے ہی واپس لیں گے اس میں مہنگائی کی وجہ سے پیسہ ڈی ویلیو ہونے کو ایڈ جسٹ کر کے زیادہ رقم نہیں لے سکتے اسی طرح کسی اور بڑھنے والی چیز مثلاً گھر یاڈالر وغیرہ کے ریٹ بڑھنے کے مطابق پیسے بڑھا کر نہیں دیے جائیں گے اگر ایسا کیا گیا تو یہ سود و حرام ہے اور اگر اس طرح کی شرائط لگائیں تو قرض میں اس طرح کی شرط لگانا حرام ہے کیونکہ سودی شرط ہے۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: " ادائے قرض میں چیز کے ستے مہنگے ہونے کا اعتبار نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.