Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ہسپتال سے بچہ لے کر پالنا
- Fatwa no.
- 1368-Web
Question
جس کے ہاں اولاد نہ ہو وہ ہسپتال سے بچہ لے کر پال سکتا ہے یا نہیں جن کے ماں باپ کا معلوم نہ ہو قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر حضرات ایسے بچوں کو بیچتے بھی ہیں، اگر بیٹا ہو ، تو پچاس ہزار اور بیٹی ہو، تو تھیں ہزار ۔ جن کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تو وہ یہ رقم دے کر خرید لیتے ہیں، اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہو گی؟
Answer (beginning)
بچے کو بیچنا اور خرید ناسخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے نیز اس خبیث فعل سے جو رقم حاصل کی وہ مال حرام ہے جسے استعمال کرناشر عانا جائز و گناہ ہے۔ البتہ خرید و فروخت کے بغیر بچہ گودلیناشر عاجائز ہے اگر چہ وہ ولد الزنا ہو۔ بچہ گود لینے پر چند احکامات کا خیال رکھنا لازم ہے ، گود لینے والا اپنے آپ کو بطور باپ اس بچے سے منسوب نہیں کر سکتا اور اسی طرح بچہ گود لینے سے محرم نہیں بن جاتا لہذا جب وہ بالغ ہو جائے گا تو اس کا اپنی منہ بولی بہنوں، منہ بولی ماں اور دیگر غیر محارم سے پر دہ ہو گا ہاں مثلاً اگر منہ بولی ماں نے اس بچے کو ڈھائی سال کی عمر تک دودھ پلا دیا تو اب یہ اس عورت کا رضاعی بیٹا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.