Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حیض کے ایام کے بعد لا علمی کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھے تو حکم

Fatwa no.
1365-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہندہ تقریباً ساڑھے گیارہ سال کی تھی، اب تک روزے فرض نہیں تھے ، گھر والے بھی نہیں رکھواتے تھے ، ان کی روزہ کشائی بھی نہیں ہوئی تھی ، اسی سال وہ رمضان کی 9 تاریخ کو بالغہ ہو گئی اور اسی سال 28 رمضان کو اس کی روزہ کشائی تھی، اب باری کے دنوں میں ، تو رخصت تھی روزہ نہ رکھنے کی اور ماہواری کے بعد بقیہ جو دن طہر کے گزرے تھے ، اس میں انہوں نے مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھا تھا، اس کے ذہن میں یہ تھا کہ روزہ کشائی کے بعد ہی روزے رکھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں تھا، اب وہ ان روزوں کی قضا کر رہی ہے۔ معلوم یہ کرنا تھا کہ آیا اس کے یہ روزے نہ رکھنے کا گناہ اس پر ہو گا جبکہ وہ لا علمی کی وجہ سے تھا؟ نیز ان روزوں کو چھوڑنے کی وجہ سے کوئی کفارہ تو ادا نہیں کرنا ہو گا ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں ہندہ پر ان تمام روزوں کی فقط قضا فرض ہے جو اس نے بالغہ ہونے کے بعد نہیں رکھے اس صورت میں کفارہ نہیں۔ خیال رہے کہ جو روزے ماہواری کی وجہ سے چھوڑے ان کی بھی قضا کرنی ہو گی ہاں ان روزوں کو چھوڑنے کا گناہ نہیں البتہ ماہواری کے بعد لاعلمی کے سبب روزے چھوڑنے کی وجہ سے ہندہ گناہگار ہے اور اس پر قضا کے ساتھ ساتھ تو بہ بھی فرض ہے لاعلمی کوئی عذر نہیں بلکہ اس معاملے میں لاعلمی خود ایک گناہ ہے ہندہ پر لازم ہے کہ فوراً اپنی ضرورت کے شرعی مسائل سیکھے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.