Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضو کے دوران کسی کام کی وجہ سے دھویا ہوا عضو خشک ہوجائے تو حکم
- Fatwa no.
- 1363-Web
- Issued
- 27 جمادی الثانی 1445ھ / 10 جنوری 2024ء
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) وضو کے دوران کسی کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے پہلے دھویا ہوا عضو خشک ہو جائے تو کیا شروع سے وضو کرنا ہو گا ؟
Answer (beginning)
وضو کے دوران کسی کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے پہلے دھویا ہو ا عضو خشک ہو جائے بلا عذر ایسا کرنا خلاف سنت اور مکروہ ہے، البتہ دوبارہ شروع سے وضو کرنا ضروری نہیں بلکہ جتنا وضو باقی رہ گیا ہے ، وہ کر لیا، تو بھی وضو ہو جائے گا۔ ہاں اگر در میان میں پھر وضو ٹوٹ گیا مثلاً واش روم ہو آئے یا کوئی اور وجہ وضو ٹوٹنے والی پائی گئی، تو دوبارہ شروع سے وضو کرنا ہو گا۔ وَ اللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) عام الا اهانت www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Darulifta Ahlesunnat Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.