Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں سانپ بچھو مارنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1359-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) نماز کے دوران سانپ آجائے اور شدید خوف ہو تو سانپ کو بھگانے یا مارنے میں نماز ٹوٹنے سے متعلق کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
سانپ بچھو مارنے سے نماز نہیں جاتی جب کہ نہ تین قدم چلنا پڑے نہ تین ضرب کی حاجت ہو ، ور نہ جاتی رہے گی، تاہم مارنے کی اجازت ہے اگر چہ نماز فاسد ہو جائے، لیکن یہ ذہن نشین رہے کہ سانپ بچھو وغیر ہ موذی جانوروں کو نماز میں مارنا اسی وقت مباح ہے کہ جب وہ سامنے سے گزرے اور اس کے ایذا دینے کا خوف ہو ، اگر تکلیف پہنچانے کا اندیشہ نہ ہو تو اب مارنا مکروہ ہو گا۔ (ملخص از بهارِ شریعت، جلد 1، حصه 3، صفحہ 613، مکتبۃ المدینه، کراچی) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دام الا اهلات Dar-ul-IftaAhlesunnat…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.