Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اچھا ہوتا اگر نماز فرض نہ ہوتی، اس جملہ کا حکم
- Fatwa no.
- 1349-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایسا بولنا یا سوچنا کہ ”اچھا ہوتا اگر نماز فرض نہ ہوتی “یا ” اچھا ہو تا اگر دن میں صرف ایک بار نماز فرض ہوتی۔“ تو کیا
Answer (beginning)
اگر ایسا خیال آتے ہی جھٹک دیا، تو کوئی حکم نہیں مگر بغیر تاویل کے ایسا کہنا کفر ہے۔ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب میں ہے: "جو شخص بغیر تاویل کے کہے: اگر اللہ تعالیٰ فلاں چیز ہمارے 66 اوپر فرض نہ کرتا تو اچھا ہوتا یہ قول کفر ہے۔ (منع الروض ص 505) “ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 616،مكتبة المدينه، کراچی) اسی میں ایک اور مقام پہ ہے: سوال: نماز کو بوجھ تصور کرنا کیسا ہے ؟ جواب: نماز کو ناپسند سمجھتے ہوئے بوجھ تصور کرنا کفر ہے۔ فقہائے کرام رحمہم اللہ السلام فرماتے ہیں : جو شخص فرض نماز کو نا پسند کرے وہ کافر ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.