Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کا اپنے بھانجے کے ساتھ بالغہ بیٹی کو لے کر عمرہ پر جانا
- Fatwa no.
- 1348-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اسلامی بہن بھانجے کے ساتھ عمرہ پر جانا چاہتی ہے، لیکن بیماری کے باعث اپنی بالغہ بیٹی کو بھی ساتھ رکھنا چاہتی ہیں اس مقدس سفر میں ، تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
اگر بھانجا بالغ یا مراہق یعنی قریب البلوغ (12 سال یا اس سے زائد عمر کا ہے، تو پوچھی گئی صورت میں وہ اسلامی بہن اپنے بھانجے کی موجودگی میں خود تو عمرہ پر جاسکتی ہیں لیکن بالغہ بیٹی نہیں جاسکتی کیونکہ بیٹی کیلئے شرعی سفر (92 کلو میٹریا اس سے زائد ) محرم یا شوہر کے ساتھ ہی کرناضروری ہے اور بھانجا چونکہ بیٹی کا کزن ہے اور کزن نامحرم ہوتے ہیں اس لئے وہ یہ سفر نہیں کر سکتی۔ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بڑھی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.