Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

انگلیاں چٹخانے میں عملِ کثیر نہ ہو تو نماز کا حکم

Fatwa no.
1326-Web
Issued
15 جمادی الثانی 1445ھ /29دسمبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عورت نے نماز میں انگلیاں ایسے چٹھائی کہ عمل کثیر نہ ہو ا تو بھی نماز مکروہ تحریمی ہو گی؟

Answer (beginning)

انگلیاں چٹخانے میں اگر عمل کثیر ہو ، تو نماز ٹوٹ جائے گی، لیکن اگر عمل کثیر نہ ہو تب بھی مرد یا عورت کا نماز میں انگلیاں چٹخانا گناہ و ناجائز عمل ہے جس نماز میں اس طرح کا عمل پایا گیا، وہ نماز مکروہ تحریمی ہو گی، تو بہ کے ساتھ ساتھ اس نماز کو بھی دوبارہ پڑھنا واجب ہو گا۔ فوائد رضویہ میں ہے: ” نماز میں انگلی چٹکانا گناہ و نا جائز ہے۔“ (فوائد رضویہه من فتاوی رضویہ، جلد 1، صفحه 1021، رضا فاؤنڈیشن ، لاهور) فتاوی فقیہ ملت میں ہے: " نماز میں انگلیاں چٹکانا بھی مکروہ تحریمی ہے۔ حدیث شریف میں ہے: " لا تفرقع اصابعك وانت فی الصلاة “ یعنی جب تم نماز کی حالت میں ہو تو انگلیاں نہ چٹکاؤ (سنن ابن ماجہ)۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.