Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
23 گرام سونا اور ایک لاکھ کا مالِ تجارت ہو تو زکوۃ کا حکم
- Fatwa no.
- 1325-Web
- Issued
- 15 جمادی الثانی 1445ھ /29دسمبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) میرے پاس 23 گرام سونا اور ایک لاکھ روپے کیش رقم تھی، کیش رقم سے میں نے بیچنے کے لئے کوئی سامان خرید لیا، جبکہ 23 گرام سونا میرے پاس موجود ہے، اس صورت میں 23 گرام سونے پر زکوۃ لازم ہو گی یا نہیں اور کتنی زکوۃ دینی ہو گی ؟
Answer (beginning)
اگر آپ نے اس رقم سے سامان تجارت خریدا ہے ، تو سامان تجارت اور سونے کی مالیت دونوں کو جمع کر کے آپ اپنے نصاب کا حساب لگائیں گے ، دونوں کی مالیت مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہے، تو آپ صاحب نصاب ہیں، لہذا اگر نصاب پر سال مکمل ہو چکا ہے تو قرض وغیرہ منہا کرنے کے بعد جو مال زکوۃ یعنی کرنسی، مال تجارت ، سونا وغیرہ سال مکمل ہونے پر باقی ہو تو سب کی مجموعی مالیت کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد زکوۃ میں دینا لازم ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.