Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گھر کی بچی ہوئی روٹی بیچنے کا کا حکم

Fatwa no.
1324-Web
Issued
15 جمادی الثانی 1445ھ / 29دسمبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) گھر میں کھانے کے لئے بنائی گئی روٹیاں بچ جائیں، تو کیا انہیں بیچ سکتے ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے تنگدستی آتی ہے؟

Answer (beginning)

بچی ہوئی روٹی اور شور بہ وغیرہ پھینکنا اسراف ہے، مرغی، بکری یا گائے وغیرہ کو کھلا دیں۔ چند روز کی بچی ہوئی روٹیاں اگر کھانے کے قابل ہیں، تو ان کے ٹکڑے کر کے شوربے میں پکا کر بھی کھایا جاسکتا ہے۔ البتہ بچی ہوئی روٹیوں کو بیچنا چاہیں تو شرعا اس کی بھی ممانعت نہیں اور روٹی فروخت کرنا تنگدستی کے اسباب میں ہونے پر کوئی روایت ہمیں نہیں ملی۔ البتہ روٹی کی بے ادبی کرنا یا پاؤں وغیرہ میں رکھنا تنگدستی کے اسباب میں مذکور ہے۔ مزید معلومات کے لیے امیر اہل سنت کی تصنیف آداب طعام کا مطالعہ فرمائیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.