Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اَرشا یا ارسہ نام رکھنا
- Fatwa no.
- 1323-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) لڑکی کا نام ارشا ہے اور گھر میں ارسہ کہہ کر پکارتے ہیں، ان دونوں کا کیا مطلب ہے اور دونوں میں سے کون سانام رکھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
آرشا کا مطلب ہے: قد آدم تک بلند ایک ہندوستانی پودا جس کی شاخیں گھاس کی طرح گرہ دار ، پتے بھی گھاس کی طرح پھول گل بنفشہ کے مانند مگر رنگارنگ اور بیچ میں ایک بال اور پھل الا ئچی کی طرح سہ پہلو ہوتا ہے ، دواؤں میں مستعمل۔ (اردو لغت، جلد 1، صفحہ 369) جبکہ ارسہ کا معنی لغت میں نہیں مل سکا۔ ہاں ارساء کا معنی کسی چیز کو جھانا، مضبوطی سے قائم کرنا وغیرہ ہے۔ ان دونوں نام کے معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز تو ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ صحابیات اور نیک خواتین کے ناموں پر نام رکھا جائے۔ ہاں ارسہ نام نہیں رکھنا چاہیے کہ فی الحال اس کا معنی نہیں مل سکا، شاید یہ بے معنی لفظ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.