Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچوں کو زہر دینے کی قسم کھائی، تو اس قسم اوراس کے کفارے کا حکم
- Fatwa no.
- 12700-Web
- Issued
- 04 جمادی الثانی 1445ھ / 18دسمبر 2023 ء
Question
حكم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی اسلامی بہن نے شوہر سے لڑائی کے وقت میں غصے میں بولا کہ خدا کی قسم میں کسی دن دونوں بچوں کو زہر دے دوں گی، تو کیا یہ قسم منعقد ہو گئی ؟ اس کا کفارہ دینا ہو گا ؟
Answer (beginning)
غلط قسم کھائی تھی اس کے لئے اللہ پاک کی بارگاہ میں سچی توبہ کریں اور ہر گز اس قسم کو پورا نہ کریں البتہ فی الحال اس کا کفارہ دینا لازم نہیں ہے۔ ہاں ! اگر والد و یا بچوں میں سے کسی کا انتقال ہو جائے، تو قسم ٹوٹ جائے گی اور کفارہ دینا لازم ہو جائے گا، اگر والدہ کی زندگی میں بچوں کا انتقال ہو جائے، تو والد و پر بذات خود کفارہ دینا لازم ہو گا بصورت دیگر اسے چاہیے کہ اپنی طرف سے قسم کا کفارہ ادا کرنے کی وصیت کر دے۔ بہار شریعت میں ہے: " اگر قسم میں کوئی وقت مقرر نہ کیا اور قرینہ سے فوراً کر نایانہ کرنانہ سمجھا جاتا ہو تو اوسے مرسل کہتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.