Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا عورت کو نماز میں ہتھیلیاں یا تلوے ظاہر کرنا ضروری ہے ؟
- Fatwa no.
- 1292-Web
Question
نماز کے دوران عورت کے لئے ستر عورت بتایا گیا ہے کہ ہاتھوں کی ہتھیلیاں، پاؤں کے تلوے اور منہ کی نکلی کے علاوہ باقی تمام بدن چھپانا لازم ہے، تو کیا یہ ضروری ہے کہ نماز میں ہاتھوں کی ہتھیلیاں یا پاؤں کے تلوے نظر آئیں ؟ اگر کوئی عورت گلوز ( دستانے) یا سوکس (موزے) پہن کر نماز پڑھے ، تو کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
نماز میں عورت کو جن اعضاء کے چھپانے کا کہا گیا ہے ، ان کا چھپانا ضروری ہے۔ البتہ ناک اور منہ کے علاوہ جن اعضاء کو ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ہے ان کا ظاہر کرنا کوئی ضروری نہیں ہے صرف اختیار ہے کہ چاہیں تو ظاہر کر سکتی ہیں ، اس لئے اگر دستانے پہن کر یا جرابیں پہن کر نماز پڑھی تب بھی نماز ہو جائے گی۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”موزہ پہن کر نماز پڑھنے میں اصلاً کوئی حرج نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.