Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قضا روزے کی نیت اذانِ فجر کے دوران یا بعد میں کرنا

Fatwa no.
1288-Web

Question

(دعوت اسلامی) کیا قضا روزے کی نیت اذان فجر کے بعد یا اس کے دوران کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

قضاروزے کی نیت طلوع فجر سے پہلے پہلے کرناضروری ہے طلوع فجر کے بعد نیت نہیں ہو سکتی البتہ یہ بات واضح رہے کہ جب طلوع فجر کے بعد اس نے قضا روزے کی نیت کی، تو اس صورت میں قضاروزہ اگر چہ درست نہیں ہو گا، لیکن اس کا نفلی روزہ ضرور شروع ہو جائے گا لہذا اس روزے کو بھی پورا کرنا اس پر لازم ہو گا اور اگر اس روزے کو توڑے گا، تو اس کی قضا اس کے ذمہ پر لازم ہو گی۔ فتاویٰ ہندیہ وبحر الرائق میں ہے: ” إذا نوى الصوم للقضاء بعد طلوع الفجر حتى لا تصح نيته عن القضاء يصير صائما وإن أفطر يلزمه القضاء “ یعنی جب کسی نے طلوع فجر کے بعد قضاروزہ کی نیت کی یہاں تک کہ اس کی قضاروزے کی نیت درست نہیں، تو وہ روزہ دار ہو گا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.