Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا شادی کی پہلی رات ہمبستری کرنا لازم ہے؟

Fatwa no.
1285-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا شادی کی پہلی رات ہمبستری کرنالازمی ہے ؟ تھکاوٹ کی وجہ سے اگر ہمبستری نہ کی جائے تو اگلے دن ولیمہ ہو جائے گا؟ میری رہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

شرعی طور پر شادی کی پہلی رات ہمبستری کرنا، ضروری نہیں ہے، البتہ ولیمہ ہونے کیلئے یہ ضروری ہے کہ اس سے پہلے ہمبستری ہو چکی ہو ، اس لئے اگر پہلی رات میں یہ عمل نہ ہوا تو جس رات میں یہ عمل ہو ا، اس سے اگلے دودن تک ولیمہ کی نیت سے مختصر سی دعوت اپنے گھر والوں کی اگر کی جائے تو بھی ولیمہ ادا ہو جائے گا۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”شب زفاف کی صبح کو احباب کی دعوت کرنا ولیمہ ہے ، رخصت سے پہلے جو دعوت کی جائے ولیمہ نہیں، یونہی بعد رخصت قبل زفاف (ہمبستری سے پہلے )۔“ ناولیمہ ہے، سے پہلے جو بعد سے پہلے)۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.