Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسبوق کی ایک رکعت باقی تھی مگر بھول کر امام کے ساتھ پھیردیا تو حکم
- Fatwa no.
- 1283-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حضرت میں عشاء کی نماز میں ایک رکعت چھوٹنے کے بعد شامل ہوا، جب امام صاحب کی چار رکعت ہوئی تو میری تین ہوئی تھیں۔ امام صاحب نے جب پہلا سلام پھیرا، تو میں نے بھی بھولے سے ایک طرف امام صاحب کے ساتھ سلام پھیر دیا اور امام صاحب کے دوسری طرف سلام پھیر نے پر مجھے یاد آگیا اور میں اپنی باقی رکعت ادا کرنے کے لئے کھڑا ہو گیا، اس صورت میں میرے لئے کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
اگر آپ نے بھولے سے امام کے ساتھ سلام پھیرا، تو ایسی صورت میں عموماً امام کے بالکل ساتھ ساتھ سلام نہیں پھیر ا جاتا بلکہ امام کے پیچھے پیچھے سلام پھیر اجاتا ہے، لہذا ایسی صورت میں اگر بھولے سے سلام پھیر دیا تو اپنی رکعت را پڑھنے کے بعد سجدہ سہو کرنا ہو گا، سجدہ سہو کرنے سے نماز ہو جائے گی، اگر سجدہ سہو نہیں کیا اور سلام پھیر کر نماز مکمل کر دی، تو ایسی نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.