Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اجتماع کے آخر میں کوئی بلند آواز سے سلام کرے تو اس کا جواب
- Fatwa no.
- 1252-Web
- Issued
- 28 جمادی الاول 1445ھ / 13دسمبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اجتماع کے آخر میں جب صلوۃ و سلام اور اختتامی دعا ختم ہوتی ہے، تو کوئی ایک بلند آواز سے سب کو سلام کرتا ہے۔ تو کیا اس سلام کا جواب دینا سب پر واجب ہو گا یا کسی ایک نے بھی دے دیا تو واجب ادا ہو جائے گا یا کسی پر بھی واجب نہیں ہو گا ؟
Answer (beginning)
یہ سلام تحیت نہیں جس کا جواب دینا واجب ہو، لہذا کسی نے بھی جواب نہ دیا تو کوئی بھی گنہ گار نہ ہو گا البتہ کوئی ملاقات کیلئے آئے اور سلام کرے تو کسی ایک کے جواب دینے سے مجلس میں موجود سب بری الذمہ ہو جائیں گی، تاہم افضل یہ ہے کہ سب جواب دیں۔ بہارِ شریعت میں ہے : " اگر کچھ لوگ جمع ہوں اور کوئی آکر السلام علیکم کہے تو کسی ایک کا جواب دے دینا کافی ہے، اگر ایک نے بھی نہ دیا تو سب گنہگار ہوں گے ، اور افضل یہ ہے کہ سب جواب دیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.