Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسبوق اپنی بقیہ نماز پوری کرنےکے لئے کب کھڑا ہو ؟
- Fatwa no.
- 1240-Web
- Issued
- 17 جمادی الاول 1445ھ / 02 دسمبر 2023 ء
Question
امام صاحب کے ایک جانب سلام پھیرنے کے بعد بعض لوگ اپنی رہ جانی والی رکعت کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور بعض دو سلام کے بعد کھڑے ہوتے ہیں درست طریقہ کیا ہے ؟؟ خلاف کرنے والے کی نماز کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
مسبوق مقتدیوں کو چاہئے کہ امام کے دوسرے سلام کا انتظار کریں اس کے بعد کھڑے ہوں تا کہ اگر امام کو سجدہ سہو کرنا ہو تو مسبوق بھی اس کے ساتھ شامل ہو جائیں، البتہ اگر مسبوق پہلے سلام کے بعد کھڑا ہو جائے اور امام کو سجدہ سہو بھی نہ کرنا ہو تو اس کی نماز ہو جائے گی۔ بہار شریعت میں ہے : " مسبوق کو چاہئے کہ امام کے سلام پھیرتے ہی فوراً کھٹڑا نہ ہو جائے بلکہ اتنی دیر صبر کرے معلوم ہو جائے کہ امام کو سجدہ سہو نہیں کرنا ہے مگر جبکہ وقت میں تنگی ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.