Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شکر قندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کو نہ کھانے کی قسم کھائی، تو حکم

Fatwa no.
1217-Web

Question

دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی عورت نے شکر قندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی قسم میں یہ نہیں کھاؤں گی، لیکن اس کا نام نہیں لیا، تو کیا اس کو کھانے سے قسم ٹوٹ جائے ؟ اس قسم کا کیا حکم ہے کفارہ ہو گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

جس چیز کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اللہ کی قسم میں یہ نہیں کھاؤں گی، پھر اس چیز کو کھالیا تو قسم ٹوٹ جائے گی اگر چہ قسم میں اس چیز کا نام نہ لیا ہو۔ قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں یا شر عی فقیروں کو دو وقت کا کھانا کھلائیں، اور اس میں جن کو صبح کھلایا انہیں کو شام میں بھی کھلائے تب کفارہ ادا ہو گا، یادس مسکینوں کو متوسط درجے کے کپڑے دے، اگر رقم دینا چاہتا ہے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دس شرعی فقیروں میں سے ہر ایک کو الگ الگ ایک ایک صدقہ فطر کی مقدار رقم دے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.